مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ نے منگل کی شب ایران کے خلاف امریکی جارحانہ کاروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایران کی آزادی، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اسلامی جمہوریہ کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
بیان کے مطابق، امریکی حکومت نے خوزستان، سیستان و بلوچستان، ہرمزگان اور کرمان میں متعدد غیر فوجی علاقوں اور شہری خدمات کے بنیادی ڈھانچے، جن میں کئی مواصلاتی ٹاورز اور ٹیلی کمیونیکیشن سائٹس بھی شامل ہیں، پر حملے کیے، جن کے نتیجے میں متعدد ایرانی شہری شہید و زخمی ہوئے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں آیا ہے کہ سیریک کے علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی حملے میں ۷۰ سے زائد افراد شہید یا زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔
بیان میں اس واقعے کو بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی اور میناب اور لامرد کی طرح جنگی جرم قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی جارحیت کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے اپنے جائز دفاع کے فطری حق کے تحت ان امریکی فوجی اڈوں کو بھرپور جوابی کاروائی کا نشانہ بنایا جو ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کا مرکز اور پشت پناہ تھے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین اور سہولیات کو ایران کے خلاف امریکی جارحانہ کاروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں، تاکہ خطے میں جنگ کے شعلوں کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے اور خطے پر مستقل بدامنی مسلط کرنے کی امریکی-اسرائیلی سازش ناکام بنائی جا سکے۔
وزارتِ خارجہ نے شہید ہونے والے ایرانی شہریوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ تمام حکام کی ذمہ داری ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں اور ان کے احکامات دینے والوں کا تعاقب، مقدمہ اور سزا یقینی بنائیں۔
بیان کے اختتام پر اقوامِ متحدہ، بالخصوص سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریوں پر زور دیا اور کہا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق اپنا کردار ادا کریں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ سلامتی کونسل کے ایک مستقل رکن کی جانب سے منشور کے بنیادی اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی پر اقوامِ متحدہ کے اداروں کی خاموشی اور بے عملی عالمی ادارے کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچائے گی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کا باعث بنے گی۔
آپ کا تبصرہ